واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہیے ۔ ایسے موقع پر مزاحیہ کلام شکر کے احساسات کا قاتل ہے ۔ دستر خوان کے اوپر سب سے بڑا کلام یہ ہے کہ آدمی خاموش رہے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے کھانا کھائے۔ ***** ایک سفر کے دوران 4 مئی 1990ء کو میں جرمنی کے فرینکفرٹ ائیر پورٹ پر ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے اگلی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس درمیان فجر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ تو میں نے ائیر پورٹ پر ہی فجر کی نماز پڑھی ۔ ایک جرمن خاتون میری نماز کو غور سے دیکھتی رہی ۔ جب میں فارغ ہو کر اٹھا تو اس نے معذرت کے ساتھ پوچھا ” کیا آپ یوگا کا عمل کر رہے تھے “۔ میں نے کہا: نہیں ، میں صلاۃ کا عمل کر رہا تھا۔ وہ یوگا کو جانتی تھی ، مگر وہ صلاۃ کو نہیں جانتی تھی۔ اس نے پوچھا کہ صلاۃ کیا چیز ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ خدا کو مانتی ہیں ۔ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ مانتی ہیں کہ خدا ہمارا خالق اور رب ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: پھر نماز اسی خالق اور مالک کی عظمت اور اس کے احسان کا اعتراف ہے۔ خدا صبح لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا یا تیرا شکر ہے کہ تو نے میرے لیے دن کو روشن کیا تا کہ میں کام کروں ۔ خدا شام لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا یا تیرا شکر ہے کہ تو میرے لیے رات لایا تا کہ میں آرام کروں ۔ اس طرح ہم رات اور دن میں پانچ بار خدا کی عظمت اور اس کے انعامات کا اعتراف کرتے ہیں۔ جرمن لیڈی بہت غور سے میری بات کو سنتی رہی ۔ اس کے بعد تھینک یو ، تھینک یو کہتی ہوئی چلی گئی۔ اسی ائیر پورٹ پر ایک جرمن پروفیسر سے ملاقات ہوئی ۔ وہ پروفیسر کارل ٹرال ( Carl Troll) کے شاگرد تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کارل ٹرال یونیورسٹی آف بون میں جغرافیہ کے پروفیسر تھے۔ وہ 1899 میں پیدا ہوئے اور 1975 میں وفات پائی۔ وہ اپنے فن میں ممتاز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader