Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

درجہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کو جغرافیہ دانوں کی عالمی یونین کا پریسیڈنٹ بنایا گیا: International Union of Geographers انھوں نے بتایا کہ 1964 میں وکٹوریہ البرٹ ہال (لندن) میں پروفیسر کارل ٹ্রال کی تقریر تھی۔ اس میں مختلف ملکوں کے ممتاز سائنس داں جمع تھے۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پروفیسر ٹ্রال نے کہا کہ سائنس داں کی حیثیت سے ان کی زندگی کا بنیادی تجربہ یہ ہے کہ وہ خالق کے زیادہ سے زیادہ احسان مند ہوتے چلے گئے اور تخلیقی عمل میں خدا کی عظمت کو دیکھ کر وہ حیران کن احساس سے بھر گئے: "The basic experience of his life as a scientist has been that he became more and more grateful to the Creator and full of wonders at God's greatness in His works of creation". انھوں نے بتایا کہ پروفیسر کارل ٹ্রال کے الفاظ پر حاضرین میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اکثر سائنس داں اٹھ کر ان کے پاس آئے اور اظہار مسرت میں ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ احساس ان تمام اہل علم کا ہے کہ جو نیچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کوئی جرات مند اس کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور کچھ لوگ اس کو اپنے دل میں لیے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ***** مئی 1990ء میں لفتھانزا کی فلائٹ کے ذریعہ میرا ایک سفر ہوا۔ دوران سفر لفتھانزا کی فلائٹ میگزین کے شمارہ مئی 1990 کو میں نے مطالعہ کے لیے کھولا۔ میگزین میں "ایکسپرس کارڈ‘‘ کا اشتہار ان لفظوں میں ایک پورے صفحہ پر چھپا ہوا تھا: "Whatever your destination, all you need to get into 880 of Europe's best hotels is the American Express Card". یعنی آپ کی جو بھی منزل ہو، یورپ کے 880 بہترین ہوٹلوں میں سے کسی ہوٹل میں جگہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ امریکی بینک کا امریکن اکسپرس کارڈ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page