Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں ہوٹلوں اور بینکوں کی عالمی تنظیم نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لیے ہر قسم کی آسودگی اور مواقع اطمینان بخش طور پر پاسکے۔ اشتہار کو میں نے پڑھا تو قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں اہل جنت کی زبان سے جنت کے بارے میں کہلایا گیا ہے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں (39:74)۔ ***** 11 مئی 1990 ء کو ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے میں سینیگال میں تھا۔ اس دوران وہاں کے ایک جزیرہ گوری (Goree) جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ دکار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جدید طرز کی مشینی کشتی جب ہم لوگوں کو لے کر سمندر کی موجوں کے اوپر تیزی سے چلنے لگی تو بے اختیار میری زبان پر یہ آیت آگئی: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (17:70)۔ یعنی، اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔ جانور اپنے پیروں کے ذریعہ زمین پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر کے خشکی کا سفر کرایا۔ مچھلیاں اپنی جسمانی محنت سے سمندر میں تیرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کشتیوں پر بٹھا کر سمندر کی سطح پر رواں دواں کیا۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ فضا میں اڑتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضا میں اڑنے کا انتظام کیا۔ یہ کیسا عجیب "کَرَّمْنَا" کا معاملہ ہے جو انسان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں کے لیے حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page