Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

محض ”ش ک رُ“ کو دہرانے کا نام شکر نہیں۔ شکر یہ ہے کہ آلاء اللہ (اللہ کی کائناتی نشانیوں) کو سوچ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور پھر زبان سے نکلے کہ خدایا تیرا شکر ہے۔ ***** 24-28 ستمبر 1990ء میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس طرابلس (لیبیا) میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی دعوت کے مطابق میں طرابلس میں تھا۔ 25 ستمبر کی شام کا وقت تھا۔ میں اپنے کمرہ کی بالکنی پر کھڑا ہوا سامنے حدِ نظر تک پھیلے ہوئے بحیرۂ روم (Mediterranean Sea) کو دیکھ رہا تھا۔ اس وقت سمندر میں کچھ تفریحی کشتیاں نظر آئیں، جو اپنے مسافروں کے ساتھ سمندر میں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں۔ فضا میں کچھ سمندری چڑیاں منڈلا رہی تھیں جو بار بار مچھلی پکڑنے کے لیے پانی میں گرتی تھیں۔ ساحل سے ملی ہوئی سڑک پر دوڑتی ہوئی کاروں کا منظر تھا جو اپنے مسافروں کو لیے ہوئے مسلسل چلی جارہی تھیں۔ ان چیزوں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ قرآن کی اِس آیت کا مطلب کیا ہے: (ترجمہ) ”ہم نے آدم کی اولاد کی تکریم کی اور ہم نے ان کو سوار کیا (حَمَلْنَا) خشکی اور تری میں “(17:70)۔ اور اس آیت میں انسان کے لیے جس ”تکریم“ کا ذکر ہے، اس سے کیا مراد ہے۔ وہ یہ کہ انسان کے ساتھ ”حَمَلْنَا“ کا معاملہ کیا گیا ہے، جب کہ حیوانات کے ساتھ ”حَمَلْنَا“ کا معاملہ نہیں کیا گیا۔ پاؤں والے جانور اپنے پیروں پر چلتے ہیں۔ مچھلیاں اپنی طاقت سے تیرتی ہیں۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ اڑتی ہیں، مگر انسان سواری پر بیٹھ کر اپنا راستہ طے کرتا ہے۔ خشکی میں اس کے لیے گاڑی ہے۔ سمندروں میں اس کے لیے کشتی ہے اور فضاؤں میں اس کے لیے ہوائی جہاز ہے۔ گویا انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے شاہانہ معاملہ فرمایا ہے۔ جو لوگ اس عطیہ الہی کا حقیقی احساس کر کے اس چیز کا ثبوت دے سکیں جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page