Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

کو حمد اور شکر کہا گیا ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ آخرت میں بھی شاہانہ معاملہ کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا (76:20)۔ یعنی، اور تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔ ***** مئی 1990ء میں سینیگال سے نئی دہلی کے لیے بذریعہ جنیوا میری واپسی ہوئی۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کے لیے میں نے سوئس ایر 544 سے اپنا سفر طے کیا۔ راستہ میں سوئس ایر کا میگزین (Swissair Gazette) مئی 1990ء کا شمارہ دیکھا۔ اس شمارہ میں مصر اور دریائے نیل کے بارے میں ایک مفصل مضمون شامل تھا۔ قدیم مصر میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی، ان میں سے کچھ بتوں کی تصویریں اس میں دی گئی تھیں۔ ان تصویروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قدیم مصر کے لوگوں نے بت تراشی میں غیر معمولی کمال حاصل کیا تھا۔ ایک بت کی تصویر کے نیچے بامعنی طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے فرعون کے زمانہ میں وہ پوچھے جاتے تھے۔ آج وہ ثقافتی ورثہ کا ایک حصہ ہیں: "In pharaonic times they were worshipped, today they are part of a cultural patrimony". ان الفاظ کی پوری معنویت اس وقت تک واضح نہیں ہوسکتی جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ قدیم زمانہ میں شرک ساری دنیا میں تہذیبی طاقت بن کر چھایا ہوا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس مشرک کا نہ غلبہ کو ختم کر دیا۔ اگر یہ مشرک کا نہ غلبہ ختم نہ کیا جاتا تو دنیا میں وہ دور کبھی نہیں آسکتا تھا جس کو آج سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: اسلام دورِ جدید کا خالق) فرینکفرٹ ائیر پورٹ پر حفاظتی ہدایت (security advice) کے عنوان کے تحت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page