Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ اپنے سامان کو رکھوالی کے بغیر نہ چھوڑیں: Do not leave your baggage unattended اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی معاملہ آدمی کو خود اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہے۔ ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں بنا رہے۔ ورنہ اس کا نفس اس کو تباہی کے راستہ پر ڈال دے گا اور پھر کوئی چیز اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہ بن سکے گی۔ 12 مئی کی شام کو فرینکفرٹ پہنچا۔ یہاں مغرب اور عشا کی نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ نصرت کا خصوصی معاملہ فرمایا۔ ***** جولائی 1990ء میں روس (سویت یونین) کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ اس سفر پر جانے سے پہلے میں نے چاہا کہ اس مضمون کو دیکھوں، جو مولانا امین احسن اصلاحی نے میری طالب علمی کے زمانہ میں علامہ موسی جار اللہ روسی (1949-1878ء) کی بابت لکھا تھا۔ یہ مضمون مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے ماہنامہ الاصلاح میں ”شذرات“ کے تحت لکھا تھا۔ میں نے مولانا عبد الرحمن ناصر اصلاحی کو خط لکھا کہ الاصلاح کے مذکورہ مضمون کی فوٹو کاپی روانہ کر دیں۔ خط لکھنے کے چند دن بعد پانچ صفحہ کے اس مضمون کی فوٹو کاپی مجھے بذریعہ ڈاک دہلی میں مل گئی۔ واضح ہو کہ دہلی اور سرائے میر (اعظم گڑھ) کے درمیان 800 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر اس میں شکر کا عظیم الشان سرمایہ موجود ہے۔ یہ انسانی ذہن کی کیسی عجیب خصوصیت ہے کہ 50 سال پہلے کا واقعہ ایک سیکنڈ میں اس کو یاد آ جائے۔ حالانکہ مجھے یاد نہیں آتا کہ زمانہ طالب علمی کے بعد دوبارہ کبھی اس کا ذکر آیا ہو۔ پھر ڈاک کا یہ نظام انسان کے لیے کتنی بڑی سہولت ہے۔ اگر موجودہ وسائل نہ ہوں تو مذکورہ مضمون کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page