Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کرنے کے لیے مجھے سولہ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس میں غالباً دوماہ لگ جاتے۔ پھر فوٹو کاپی کی مشینیں کتنی بڑی نعمت ہیں جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ چند لمحے میں کسی چیز کا کسی تبدیلی یا فرق کے بغیر عکس حاصل کر لیا جائے۔ یہ باتیں بظاہر بالکل معمولی ہیں، مگر معمولی چیز کو غیر معمولی چیز کے روپ میں دیکھنے ہی کا نام شکر ہے۔ اگر آدمی جذبہ شکر کے ابلنے کے لیے انوکھے معجزہ کا انتظار کرے تو وہ کبھی بھی خدا کا سچا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسے اسبابِ شکر کسی کے لیے ظاہر ہونے والے ہی نہیں۔ ***** نومبر 1990ء کو جاپان کے راستے امریکا کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ ٹوکیو سے لاس اینجلس کے لیے جاپان ائیر لائنز کی فلائٹ نمبر 62 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ دس گھنٹے کی مسلسل پرواز تھی جو پوری کی پوری بحر الکاہل کے اوپر طے ہوئی۔ کرۂ ارض کا تقریباً 71 فی صد حصہ سمندروں سے گھرا ہوا ہے۔ ان میں سب سے بڑا سمندر بحر الکاہل (Pacific Ocean) ہے۔ متصل سمندروں کو چھوڑتے ہوئے صرف بحر الکاہل تمام سمندروں کا 45 فیصد حصہ ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 12925 فٹ ہے۔ ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک اس کا فاصلہ تقریباً گیارہ ہزار میل ہے۔ اس عظیم سمندر کے مقابلے میں تمام انسانوں کی مجموعی تعداد ایک چیونٹی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ مگر یہی انسان اس کے اوپر فاتحانہ پرواز کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا یہ کیسا عجیب احسان ہے۔ میں نے نیچے سمندر کی لہروں کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ لہریں کہہ رہی ہوں کہ اے انسان! ان احسانات کو سوچ کر تیرے اندر شکر خداوندی کا سیلاب امنڈ پڑنا چاہیے۔ مگر دنیا میں شاید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page