واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی کوئی انسان ہو جس نے سمندر کی ان بیتاب لہروں میں اس کے ربانی پیغام کو سنا ہو ۔ ***** 2 دسمبر 1990ء کو میں امریکا میں تھا۔ وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے خلیج کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ میں میری وہی رائے ہے جو عام طور پر علماء کی رائے ہے۔ علماء کی رائے نہایت تفصیل کے ساتھ آ چکی ہے ۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ تذکیری باتوں پر گفتگو کریں جن کے بارے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ ابھی ہم لوگوں نے ایک کھانا ختم کیا ہے۔ کھانے کے بعد کے لیے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي، وَسَقَانِي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (اس اللہ کا شکر اور تعریف ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور جس نے مجھے پانی پلایا اور جس نے مجھے مسلمانوں میں سے بنایا)۔ اس دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اس کے الفاظ کو یاد کرلے اور کھانے کے بعد اسے اپنی زبان سے دہرادے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا اپنے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب ہے، نہ کہ محض اپنے الفاظ کے اعتبار سے ۔ آپ اگر کسی سے کہیں کہ میرا فلاں ٹیلی فون نمبر ہے، تم اس نمبر پر مجھے کال کر لینا، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ اس گنتی کو یاد کر کے اسے اپنی زبان سے دہراتا رہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ٹیلی فون سیٹ کے اوپر اس نمبر کو ڈائل کر کے آپ سے ربط قائم کرے ۔ یہی دعا کا معاملہ ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جب آپ دعا کے یہ الفاظ پڑھیں تو آپ کا ذہن ان کے معانی کی طرف چلا جائے ۔ آپ سوچیں کہ خدا نے کس طرح وہ کھانا اور پانی بنایا جو میری بھوک اور پیاس کو مٹائے اور میری زندگی کی طاقت بنے ۔ جب آپ اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader