Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

منزل معلوم ہے، مگر دوسرے سفر کی منزل معلوم نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دوسرے سفر میں میرے اوپر کیا بیتنے والا ہے۔ کچھ دیر تک میں پارک میں بیٹھا، خوبصورت پارک، سرسبز درختوں سے ڈھکے ہوئے مکانات، ہوا کے خوش گوار جھونکے، سڑک پر پھسلتی ہوئی کاریں، سورج کی سنہری روشنی میں اڑتے ہوئے ہوائی جہاز، اس طرح کے مختلف مناظر کے درمیان میں نے سوچا کہ خدا نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ لوگ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ مگر کوئی نہیں جو ان بے پایاں نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ میری زبان سے بے ساختہ نکلا: خدایا! میں ساری انسانیت کی طرف سے تیرا شکر ادا کرتا ہوں تا کہ ان کے اوپر تیرا غضب نازل نہ ہو جائے۔ * * * * * اکتوبر 1991ء میں مجھے روم اور مالٹا کا ایک لمبا سفر کرنا پڑا۔ مالٹا میں میرا قیام ہوٹل ”ہالی ڈے ان“ میں تھا۔ تاریخی اعتبار سے مالٹا جیسے چھوٹے اور دور دراز مقامات تاریخ کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب کہ دنیا میں عام طور پر مذہبی جبر کا دور دورہ تھا۔ لوگ حکومتوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لیے اس طرح کے مقالات پر پناہ لیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مسیحی بزرگ نے رومی پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیے مالٹا میں پناہ لی تھی۔ مالٹا کے بارے میں ایک تعارفی پمفلٹ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ چرچ ابتداءً 1417ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1694ء میں وہ دوبارہ بنایا گیا۔ یہ چرچ سینٹ اگا تھا سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رومی شہنشاہ ڈیسیس کی تعذیب سے بھاگ کر مالٹا آئے تھے: "CHAPEL OF ST. AGATHA: This church was originally built in 1417, and redesigned by Lorenzo Gafa, in 1694. The church is dedicated to St. Agatha who, it is said, found shelter in Malta from the persecution of the Roman Emperor Decius (249 AD)"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page