واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہبی جبر کے اس دور کو اسلام نے ختم کیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ عطیہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں، مگر معطی کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بہت سے لوگ اس خدائی واقعہ کو اپنے قومی فخر کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ اس کو وہ شکر خداوندی کے خانہ میں ڈالیں۔ ***** ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے برسلز (بیلجیم) کا میرا ایک سفر ہوا۔ 16 ستمبر 1992ء کو فجر کی نماز برسلز کی آخری نماز تھی۔ ناشتہ سے فراغت کے بعد اپنے ایک میزبان ڈاکٹر لیونارڈو کے ہمراہ ایرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ضروری کارروائی کے بعد اندر داخل ہوئے تو ایرپورٹ پر موجود چرچ کے فادر مل گئے۔ انھوں نے ہم کو پہچان لیا۔ کیوں کہ انھوں نے کانفرنس میں ہمیں دیکھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایرپورٹ کے احاطہ میں ایک مسجد بھی ہے۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے ہمارا شوق دیکھ کر ہم کو مسجد تک پہنچایا۔ ہم نے کچھ وقت اس مسجد میں گزارا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ لمبائی میں وہ دس قدم ہے اور چوڑائی میں سات قدم۔ میں نے یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے کمزور آدمی کو ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کہ مذہبی تشدد دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مسلم حکومتیں اپنے ہوائی اڈہ کے اندر اپنے مسافروں کی سہولت کے لیے مسجدوں کی تعمیر کر رہی ہیں۔ ***** لندن کے ایک سفر (ستمبر 1992ء) میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی سازشیں ہورہی ہیں، اس کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو رات کے وقت ہورہی تھی۔ میں نے کہا کہ یہ ایسی ہی بات ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader