واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسے کوئی کہے کہ دنیا میں اندھیرا چھا رہا ہے، اس کو دور کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں۔ بظاہر اس وقت اندھیرا ہے، مگر دوسرا اس سے بڑا واقعہ یہ ہے کہ پورا کائناتی نظام اس اندھیرے کو ختم کر کے دوبارہ صبح طلوع کرنے کی طرف متحرک ہے۔ پھر آپ اندھیرے کے خلاف احتجاج کیوں کریں ۔ آپ آنے والی صبح کو سوچ کر اللہ کا شکر کیوں نہ کریں۔ میں نے کہا کہ اس دین کے ساتھ اللہ نے محفوظیت (الحجر، 9: 15) کا معاملہ کیا ہے۔ اس معاملہ کی نشانیاں آپ ساری تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں۔ تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ خود تاتاری دین کے خادم بن گئے۔ بیسویں صدی میں اتا ترک اور عصمت انونو نے ترکی سے اسلام کو ختم کرنا چاہا۔ مگر دو نسلوں تک حکومت کی دین کو مٹانے کے لیے ساری طاقت لگانے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت انونو (1983-1884ء) نے انتقال کے وقت کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ عجیب چیز دیکھی کہ ہم نے ترکی میں سیکولرزم کا پودا بویا، مگر جب پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ یہی معاملہ ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ لوگوں کے بیان کے مطابق 1947ء سے پہلے ہندوؤں نے انڈیا سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر ساری کوششوں کے بعد یہ حال ہوا کہ 1947ء میں غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی۔ آج اسی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چوگنا ہو چکی ہے۔ میوات میں کچھ جاہل مسلمان تھے جو چوٹیاں رکھتے تھے اور ہندو رسوم مناتے تھے۔ ہندوؤں نے ان کو شدھی کر کے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی دینی اصلاح کی کوشش شروع کی۔ آج یہ حال ہے کہ نہ صرف میواتیوں کی دینی اصلاح ہوئی بلکہ مولانا الیاس صاحب کی اٹھائی ہوئی تحریک ایک عالمی اصلاحی تحریک بن گئی۔ بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader