Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ایودھیا کی مسجد میں ہندوؤں کو داخلہ کا موقع اس لیے ملا کہ وہ غیر آباد تھی۔ کیوں کہ "خانۂ خالی را دیومی گیرد" یعنی گھر خالی ہو تو اس میں جن بسیرا کر لیتے ہیں۔ اس احساس نے دوسری مسجدوں کی آبادی کا ذہن پیدا کیا۔ آج ہندوستان کی تین لاکھ سے زیادہ مسجدیں مزید بہت زیادہ آباد اور پر رونق ہو چکی ہیں۔ پھر جب حالت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش برعکس طور پر خود اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا باعث ہوتی ہے تو ہم کو لوگوں کی سازش پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ * * * * * ستمبر 1992ء کو ایک سفر سے نئی دہلی کے لیے واپسی کے موقع پر میں دہلی میں ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔ دہلی کے ہوائی اڈہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ وہاں پہنچ کر نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کے باہر عربی میں اماکن الصلاة اور انگریزی میں (Prayer Room) لکھا ہوا تھا۔ مسجد اللہ کے بندوں کے لیے مامن ہے۔ اس کے اندر داخل ہو کر ایک خاص طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ وہ اہلِ ایمان کے لیے روحانی پناہ گاہ بھی ہے۔ میں نے سوچا کہ دنیا کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں کثرت سے مساجد کی موجودگی مسلمانوں کے لیے ایک غیر معمولی ایڈوانٹج کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ پرامن تحریک کو مساجد کی بنیاد پر اٹھائیں، اور پھر دنیا کے ہر گوشہ میں اپنے لیے بنا بنایا مرکز عمل پالیں۔ * * * * * جمہوریہ مالدیپ بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے۔ دسمبر 1987ء میں مالدیپ کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ یہ سفر ایک انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس میں شرکت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page