Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا فلسفہ

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کی بنیاد پر ایک تحریک اٹھاتا ہے۔ لیکن فریق ثانی کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں کا احساس فریق اوّل کے خلاف اس کے دل میں نفرت ڈال دیتا ہے۔ یہ نفرت دھیرے دھیرے تشدد کی صورت اختیار کرلیتی ہے، اور اگر تشدد کے ذریعے مطلوب کامیابی نہ مل رہی ہو تو فریق اوّل کے دل میں فریق ثانی کے خلاف نفرت کا طوفان اس کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کے خلاف ہر ممکن تخریبی کارروائی شروع کردے، یہاں تک کہ اس کو مٹانے کے لیے اُس قسم کی بھیا نک کارروائی کرنے لگے جس کو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ پیس فل ایکٹوزم کے سلسلے میں یہ بات غالباً پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ دوسرے مصلحین کی طرح ان کو بھی فریق ثانی کی طرف سے سخت قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آپ نے کبھی اُن کے خلاف نفرت کی زبان استعمال نہیں کی۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آپ ہمیشہ نفرت کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر مکہ میں پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کا ایک خاندان تھا، جس کو آل یاسر کہا جاتا تھا۔ یہ ایک کمزور خاندان تھا۔ چنانچہ آپ کے طاقت ور مخالفین نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور کہا کہ پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو۔ پیغمبر اسلام نے اس منظر کو دیکھا تو آپ نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی نفرت کا کلمہ نہیں کہا بلکہ آپ نے ان سے صرف یہ فرمایا: صَبْراً يَا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5646)۔ یعنی، اے آلِ یاسر صبر کرو، کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ جنّت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page