Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا فلسفہ

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادتی پر اشتعال نہ ہوں ۔ وہ کسی بھی حال میں فریقِ ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں۔ یہ پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا جس کو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کیا۔ یعنی مخالفین کی ہر زیادتی پر صبر کرنا ۔ قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں ۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر کی زبان میں فرمایا: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12) ۔ یعنی، ہم تمہاری ایذاؤں پر صرف صبر ہی کریں گے ۔ یہ صبر کوئی سادہ بات نہ تھی ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فریقِ ثانی کی ظالمانہ کارروائی کے باوجود مثبت سوچ پر قائم رہنا، اپنے آپ کو اس سے بچانا کہ اپنے ذہن میں فریقِ ثانی کی منفی تصویر بن جائے ۔ کیوں کہ فریقِ اول کے دل میں اگر فریقِ ثانی کی منفی تصویر بن جائے تو فریقِ اوّل کبھی فریقِ ثانی کے درمیان پر امن طریق کار کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر کا اصول فریقِ اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریقِ ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جائے ۔ پُراَمْن طریقِ کار (peaceful activism) معتدل ذہن کا اظہار ہے۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پُر امن طریق کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا اصول دراصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مخاطب گروہ کی طرف سے مسلسل زیاد تیاں کی گئیں، لیکن آپ ہمیشہ سختی کے ساتھ صبر کے اصول پر قائم رہے ۔ اور اپنے ساتھیوں کو اسی کی تلقین کی ۔ آپ کی مجلسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مخالفین کے ظلم کا چرچا کیا جائے۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مخالفین کے ظلم کے حوالے سے ان کے خلاف بد دعائیں کریں ۔ اس کے برعکس، آپ ہمیشہ ظلم کرنے والوں کے خلاف اچھی دعا کرتے تھے ۔ آپ نے اپنے مخالفوں کو کبھی کافر یا دشمن نہیں کہا، بلکہ ہمیشہ ان کے بارے میں انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page