تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
کا لفظ بولتے رہے ۔ اس معاملے کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ ایک بار آپ کے مخالفوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا ، اُس وقت آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : اللّٰهُمَّ اِھْدِ قَوْمِی فَاِنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ( شعب الايمان للبیہقی ، حدیث نمبر 1375 ) ۔ یعنی ، خدایا ! میری قوم کو ہدایت دے ، کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔ یک طرفہ صبر اور خیر خواہی کا طریقہ جو آپ نے عرب میں اختیار فرمایا ، وہ اسی لیے تھا کہ فریقِ ثانی کے بارے میں آپ ، یا آپ کے ساتھیوں کے دل میں شکایت اور نفرت کی نفسیات پیدا نہ ہونے پائے ۔ کیوں کہ جو ذہن شکایت اور نفرت لیے ہوئے ہو ، وہ اصلاح کا کام درست طور پر نہیں کر سکتا۔ سنت صبر صبر کیا ہے ، صبر یہ ہے کہ جذبات یا اشتعال کے موقع پر اپنے آپ کو تھاما جائے ۔ جوابی کارروائی کرنے سے پہلے اپنے جذبات کو روک کر یہ سوچا جائے کہ میرے لیے اس موقع پر صحیح رَدِ عمل کیا ہے اور زیادہ نتیجہ خیز کارروائی کیا ہو سکتی ہے۔ کبھی جذبات کو روک لینے کا نام صبر ہے ، کبھی صبر اس کا نام ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو جوابی اقدام سے باز رکھا جائے اور کبھی صبر یہ ہوتا ہے کہ اقدام تو کیا جائے مگر وہ منصوبہ بند اقدام ہو نہ کہ محض جذباتی اقدام ۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایک مخالف اگر کسی کو نقصان پہنچائے تو وہ اس پر صبر کرلے یا وہ اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرے۔ جواب یہ ہے کہ صبر کا مطلب خواہ مخواہ نقصان اٹھانا نہیں ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ غیر موافق صورت حال پیش آنے کے بعد ٹھنڈے ذہن سے آپ یہ سوچیں کہ آپ کا جوابی اقدام آپ کے حق میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا یا آپ کے نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader