Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے: فالصبر جامع لمكارم الأخلاق (فتح الباری، جلد 11، صفحہ 305)۔ صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔ آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے ردِ عمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں ۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں ۔ یہ بے صبری کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں، مگر آپ اس پر مشتعل نہ ہوں، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے ۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔ بے صبری بھی عمل ہے، اور صبر بھی عمل ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔ بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف۔ قرآنی طریقہ موجودہ دنیا میں آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ اور جب وہ امتحان کی حالت میں ہے تو اس کو آزادی بھی دی گئی ہے۔ اب کچھ لوگ آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور کچھ لوگ آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ آزادی کے غلط استعمال ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ دنیا میں فساد ہوتا ہے۔ باہمی مقابلے پیش آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف عداوتیں جاگتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page