Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ ہتھیار یا جنگ صرف تخریب کاری کا سبب ہے۔ جب بھی کسی حقیقی معنوں میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ پرامن جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہے۔ اگر نتیجے کی بنیاد پر منصوبہ بنایا جائے تو کوئی بھی شخص مسلح عمل کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ ہر شخص لازمی طور پر پرامن عمل کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنائے۔ صبر کا طریقہ ثابت شدہ طور پر بہتر طریقہ ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ لوگ صبر کا طریقہ اختیار نہیں کرتے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ صبر اپنے آپ پر سیلف کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ صبر کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ صبر دراصل سیلف ڈسپلن کا نام ہے، اور بلاشبہ سیلف ڈسپلن سے زیادہ مشکل کوئی کام انسان کے لیے نہیں۔ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا مرد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایگوئسٹ (egoist) ہوتا ہے۔ عورت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اموشنل (emotional) ہوتی ہے۔ یہ دونوں صفتیں پیدائشی صفتیں ہیں۔ ان کو بدلنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔ اگر آپ اس حقیقت کو جان لیں تو آپ کے لیے عورت اور مرد دونوں کے ساتھ معاملہ (deal) کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس کا مختصر فارمولا یہ ہے کہ مرد کے ایگو کو ٹچ (touch) نہ کیجیے، اور عورت کے اموشن (emotion) سے نہ ٹکرائیے۔ یہی فارمولا خاندانی زندگی میں بھی کارآمد ہے اور سماجی زندگی میں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں معاملات ہمیشہ ٹکراؤ کی بنا پر بگڑتے ہیں۔ ٹکراؤ سے اعراض کرنا ہی پُر عافیت زندگی کا واحد کامیاب فارمولا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور فارمولا عملی طور پر اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اس فارمولے کو ایک لفظ میں ٹکراؤ مینجمنٹ (conflict management) کہا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page