تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation) کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ۔ کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔ اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض دانش مندانہ طریق زندگی کا دوسرا نام ہے۔ صبر و اعراض اپنی حقیقت کے اعتبار سے اقدام ہے، اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے ہیں۔ صبر و اعراض اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ صبر — ایک عظیم عمل اگر آدمی ایک چیز کے کھونے پر صبر کر لے تو اس کے بعد وہ اس سے زیادہ بڑی چیز پالیتا ہے جس کے کھونے پر اس نے صبر کیا تھا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو اس کا صبر ایک ایسی چیز پر ہوتا ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق پیش آئی تھی، جس میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں۔ اس طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ نہ ملنے والی چیز پر محرومی کو بطور واقعہ تسلیم کرنا، اور ملنے والی چیز کے حصول کے لیے اپنی کوشش کو جاری رکھنا۔ صبر (patience) کوئی بے عملی کا واقعہ نہیں۔ بلکہ صبر ایک عظیم عمل ہے۔ صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ اس پر افسوس کر کے اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اس کو بھلا دے۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ اس صابرانہ روش کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بقیہ وقت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ نئے عزم کے ساتھ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ نئے مواقع (opportunities) کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرے۔ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس جو کچھ بچا ہے اس کو منظم انداز میں کام میں لانے کی کوشش کرے۔ وہ گزرے ہوئے ناخوشگوار واقعے کو اپنے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader