Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تجربہ بنالے۔ وہ اس سے سبق سیکھے اور آئندہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ پرانا مقولہ ہے کہ صبر تلخ است لیکن بر شیریں دارد (صبر کڑوا ہے، لیکن اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے)۔ دنیا کا قانون یہ ہے کہ بے صبری ہمیشہ آدمی کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک چانس کو کھونے کے بعد دوسرے چانس کو نہ کھوئے، وہ دوسرے چانس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اس نقصان کی تلافی کرلے۔ اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ ایک موقع کو کھونا، کبھی خاتمہ کے ہم معنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ نئے موقع کو دریافت کر کے اس کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ صبر پر بے حساب اجر قرآن میں صبر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یعنی، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ صبر (patience) آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مثبت اعمال کر سکے، جو غیر معمولی اجر کا باعث بنتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام میں ساری اہمیت تعمیر شخصیت کی ہے، جس کو قرآن میں تزکیہ (20:76) کہا گیا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان (test) کی دنیا ہے۔ یہاں مسلسل طور پر دوسروں کی طرف سے ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں، جو آدمی کو گوارا نہیں ہوتے، جو آدمی کے اندر نفرت، غصہ، اشتعال اور منفی سوچ جیسی کیفیات پیدا کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی منفی کیفیات آدمی کو مسلسل طور پر ڈسٹریکٹ (distract) کرتی رہتی ہیں۔ وہ آدمی کی توجہ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف کر دیتی ہیں۔ یہ ایک تباہ کن صورت حال ہے۔ مگر یہ ناموافق صورت حال فطرت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اس ناخوش گوار صورت حال کا خاتمہ کرنے پر قادر نہیں۔ ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page