تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
حالت میں اس کے مضر انجام سے اپنے کو بچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہر ایسے ناخوش گوار موقعے پر صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر کی یہ اہمیت تدبیر کے اعتبار سے ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ وہ آدمی کو رد عمل سے بچاتا ہے، اور رد عمل (reaction) ہر قسم کی برائیوں کی جڑ ہے۔ ہر برائی ابتدا ء کسی ناخوشگوار واقعہ کے خلاف رد عمل سے پیدا ہوتی ہے، اور پھر بڑھ کر وہ بگاڑ (breakdown) کی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے۔ صبر آدمی کو رد عمل سے بچاتا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو رد عمل سے بچالے، وہ گویا تمام برائیوں سے محفوظ ہو گیا۔ صبر کا فائدہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے : ﴿وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ﴾ (25:20) ۔ یعنی، اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو۔ دوسرے الفاظ میں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناپسندیدہ صورتِ حال پیش آنے پر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتا تاکہ تمھارے لیے مواقع کو اوویل کرنا ممکن ہو ۔ جذبات سے مغلوب ہو کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی ہوتا ہے، اور جذبات کو قابو میں رکھ کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے : میں نے تم سب کو ایک ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے تا کہ تم جو بھی ناپسندیدہ بات سنو، یا اختلاف دیکھو تو صبر کرو : ﴿لِتَصْبِرُوا وَعَلَى مَا تَسْمَعُونَ مِنْهُمْ وَتَرَوْنَ مِنْ خِلَافِهِمْ﴾ (تفسیر البغوی ، جلد 6، صفحہ 77) ۔ یعنی، اور درست راستہ اختیار کرو۔ اصل یہ ہے کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق ، موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے مصالح کے تحت اقدامات کرتا ہے۔ یہ اقدام مکمل معنوں میں دوسروں کے مطابق نہیں رہتا۔ بظاہر اس کا کچھ حصہ آپ خلاف ہو گا تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader