Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی نفوذ، وغیرہ۔ مگر ان سب پر صبر کا حکم دیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس وقت جن کاموں کے لیے نتیجہ خیز جدوجہد ممکن ہے، ان پر محنت کرو، اور جن کاموں میں بروقت نتیجہ خیز عمل ممکن نہیں ہے ان سب کو مستقبل کے حالات پر چھوڑ دو۔ صبر ایک عظیم نیکی پروگرام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کی حیثیت مثبت پروگرام کی ہو۔ اور دوسری وہ جو اتفاقی ضرورت کے تحت اختیار کی جائے۔ مثلاً صحت بخش غذا ہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ کبھی جسم کو دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر دوا کی حیثیت صرف وقتی مطلوب کی ہے۔ غذا ہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے اور دوا ہمارے جسم کی صرف اتفاقی ضرورت۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین میں صبر کی حیثیت مثبت تعلیم کی ہے۔ صبر ہماری مستقل دینی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جنگ کی حیثیت صرف وقتی ضرورت کی ہے۔ صبر ایک عظیم نیکی ہے جو ہر وقت اور ہر حال میں مطلوب ہے۔ جب کہ جنگ صرف اس وقت مطلوب ہوتی ہے جبکہ انتہائی ناگزیر حالات میں بطور دفاع اس کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔ صبر وہ اہم ترین اصول ہے جو موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت اور ہر شخص کو درکار ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اس امتحان کے مرحلہ سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔ اس دنیا میں آدمی کو اپنے نفس کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ شیطان کی ترغیبات کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر کی ضرورت ہر لمحہ اور ہر موقع کے لیے ہے۔ نقصان کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے کو مایوسی سے بچائیں۔ فائدہ کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر اٹھنے والے برتری کے احساس کو کچل کر ختم کردیں۔ بیماری کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ آہ و فغاں نہ کریں۔ صحت کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر فخر و ناز کے جذبات کو نہ اٹھنے دیں۔ اشتعال انگیزی کے موقع پر صبر یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page