تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ آپ اپنے کو اشتعل ہونے سے بچائیں۔ اور جب کوئی شخص آپ کی تعریف کرے تو اس وقت صبر یہ ہوگا کہ آپ اس سے کبر کی غذا لینے کے بجائے سراپا تواضع بن جائیں۔ صبر کوئی انسانی قانون نہیں ، وہ خود فطرت کا ایک قانون ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ صبر بہادری ہے صبر بہادری ہے، اور بے صبری بزدلی۔ جو لوگ صبر کرنے پر تیار نہ ہوں انھیں آخر کار بزدل بن کر اس دنیا میں رہنا پڑے گا۔ اور بزدلی کا دوسرا نام منافقت ہے جس سے زیادہ بری اخلاقی صفت اور کوئی نہیں۔ موجودہ دنیا میں خود فطری نظام کے تحت بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچتی ہے یہ ایک لازمی صورت حال ہے۔ یہ معاملہ انسانی زندگی کے آغاز ہی میں ہابیل اور قابیل کے ٹکراؤ کی صورت میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ تاریخ کے ہر دور میں، حتیٰ کہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی جاری رہا، وہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود اس دنیا ہی کا خاتمہ ہو جائے۔ ایسی حالت میں کسی بھی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی پسند کے عین مطابق ایسی زندگی حاصل کرلے جہاں اس کو نہ کسی سے شکایت ہو اور نہ کسی سے اختلاف۔ ایسا انتخاب موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں، نہ صالحین کے لیے اور نہ غیر صالحین کے لیے۔ موجودہ دنیا میں حقیقی انتخاب صرف دو روش کے درمیان ہے۔ آپ یا تو گھر سے باہر تک ہر ایک سے مسلسل لڑتے رہیں یا شکایت و اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ پہلی روش اگر پھول کے درخت میں اس کے کانٹوں سے الجھنے کا نام ہے تو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader