Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مقابلہ میں دوسری روش یہ ہے کہ کانٹے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے پھول کو لے لیا جائے۔ مگر پہلی روش کسی کے لیے بھی مستقل طور پر ممکن نہیں کیوں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر کی تباہی کے ہم معنی ہے۔ اور کوئی بھی اتنا نادان نہیں کہ وہ مستقل طور پر اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ اس لیے عملاً یہ ہوتا ہے کہ بے صبری کی روش اختیار کرنے والے وقتی طور پر دوسروں سے لڑتے ہیں اور آخر کار اس کا تباہ کن نتیجہ دیکھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں مگر ایسی خاموشی کا مطلب منافقت ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آپ کو بہر حال صبر کرنا ہے۔ اگر آپ اصول کی بنیاد پر صبر نہ کریں تو آپ کو مفاد کی بنیاد پر صبر کرنا پڑے گا اور اسی دوسری روش کا نام منافقت ہے۔ صبر کی جیت ایک امریکی مثل ہے کہ صبر کی جیت ہوتی ہے (patience conquers)۔ صبر کی فاتحانہ صفت کے بارے میں یہ ایک عالمی تجربہ ہے جو مختلف الفاظ میں ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہے، اس نے بلاشبہ صبر وتحمل کے ذریعہ اس کو حاصل کیا ہے۔ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صبر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا بے شمار ناموافق اسباب سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں کا ہر آدمی دوسرے آدمی کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ دنیا کی مثال ایک ایسے باغ کی ہے جہاں نہایت خوش نما پھول ہیں۔ مگر ان پھولوں کا راستہ بے شمار کانٹوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ کانٹوں کو برداشت کیے بغیر پھولوں تک پہنچنا ممکن نہیں۔ زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جو ہر آدمی کے لیے صبر و تحمل کو ضروری قرار دے دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page