تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں جو آدمی صبر کرنے پر راضی نہ ہو وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔ کیوں کہ اپنی بے صبری کی بنا پر جگہ جگہ وہ دوسرے انسانوں سے الجھتا رہے گا۔ اور پھر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکے گا۔ کوئی بھی انسان اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنے مزاج کے خلاف چیزوں کا بالکل خاتمہ کر دے، یا اپنے مخالف انسانوں پر بلڈوزر چلا دے۔ ایسی حالت میں ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے— وہ ناموافق چیزوں پر صبر کرے، اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ مشکلات کو ہم صبر ہی کے ذریعہ حل کر سکتے ہیں۔ ناپسندیدہ اشخاص سے ہم درگزر کر کے ہی نپٹ سکتے ہیں۔ مخالفین کی سازشوں کو ہم تحمل کر کے ہی نا کام بنا سکتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے سفر میں رکاوٹ بنیں ، ان سے اعراض کر کے ہی ہم اپنا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتے ہیں ۔ ہمیں ہر حال میں صبر ہی کرنا ہے۔ کیوں کہ اس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا بنانے پر ہم قادر نہیں۔ صبر بے عملی یا بزدلی نہیں ، صبر زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے ۔ وہ آدمی جو پختہ عقل کا مالک ہو، وہ صبر کی روش اختیار کرنے والا بھی ضرور ہوگا ۔ غیر صابرانہ عمل صبر دراصل پرکٹکل وزڈم (practicle wisdom) کی بنیاد پر منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے ۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی آپ کوئی بڑا کام کرنا چاہیں گے تو فرد کی سطح پر ہو، یا اجتماع کی شکل میں، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کچھ اجتماعی حالات موجود ہوں گے۔ ان حالات کی موجودگی یہ سوچنا ہوگا کہ آپ اپنا کارگر لائحہ عمل کیسے بنائیں ۔ اس قسم کا لائحہ عمل ہمیشہ اس کا طالب ہوتا ہے کہ آپ پرکٹکل وزڈم کا طریقہ اختیار کریں۔ ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کرتے ہوئے پیں فل بنیاد پر اپنا منصوبہ بنانا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader