Urdu book · تعمیرِ شخصیت

غیر صابرانہ عمل

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ وقت کے موجود حالات (existing situation) کی رعایت کے ساتھ ہی کوئی فرد یا گروہ اپنے لیے نتیجہ خیز منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ اسی کا نام ہے پریکٹیکل وزڈم۔ مثلاً مکہ کے لیڈروں نے جب رسول اور اصحاب رسول سے عملاً یہ مطالبہ کیا کہ آپ لوگ مکہ چھوڑ کر باہر چلے جائیں تو آپ نے بغیر مزاحمت کے اس کو مان لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے پریکٹیکل وزڈم کا تقاضا یہی تھا۔ جوابی اقدام صبر نہیں ہے۔ صبر یہ ہے کہ آپ صورت حال کے خلاف جوابی اقدام نہ کریں، بلکہ جوابی اقدام سے بچتے ہوئے اعراض (avoidance) کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنائیں ۔ موجودہ دور کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک عام بات جو سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ڈکشنری میں ظلم کا لفظ تو بنکر ار ہے، لیکن ری ٹیلیشن کا لفظ نہیں ہے۔ ری ٹیلیشن (retaliation) کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو نقصان پہنچانے کا کام کرنا، اس سبب سے کہ اس نے پہلے نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے، یعنی انتقام: the action of harming someone because they have harmed oneself; revenge. موجودہ زمانے کا تجربہ بتاتا ہے کہ جس چیز کو مسلمان ظلم کہتے ہیں، وہ عام طور پر رد عمل ہوتا ہے۔ یعنی خود مسلمانوں کے کسی غیر صابرانہ عمل (جذباتی عمل) کے بعد فریق ثانی کی طرف سے جوابی کارروائی۔ اس طرح کے کیس میں مسلمان اگر فریق ثانی کے رد عمل کو ظلم خیال کریں، اور اس کے لیے بددعائیں کریں تو اس کی بنا پر وہ ظلم نہیں بن جائے گا، وہ غیر صابرانہ عمل کا ری ٹیلیشن ہی رہے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page