Urdu book · تعمیرِ شخصیت

حقیقت پسندی

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت پسندی اگر آپ میدان میں ہوں اور بارش آجائے تو آپ بھاگ کر سایہ کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ یہ پسپائی نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ اسی طرح اگر زلزلہ آجائے تو آپ گھر سے نکل کر کھلے میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ بھی پسپائی نہیں ہے بلکہ ایک فطری حقیقت کا اعتراف ہے۔ جہاں انسان کا اور فطرت کا معاملہ ہو وہاں مسئلہ کا حل صرف اعتراف ہوتا ہے، نہ کہ ٹکراؤ۔ بارش اور زلزلہ کا نظام جو خالق فطرت نے دنیا میں رکھ دیا ہے۔ انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ انسان صرف یہ کر سکتا ہے کہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچانے کی تدبیر کرے ۔ اور اس کے نقصان سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اعراض کا اصول اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی زد سے ہٹا دیا جائے ۔ اسی لیے آپ بارش کے وقت سایہ میں آجاتے ہیں اور زلزلہ کے وقت میدان میں۔ ٹھیک یہی معاملہ صبر اور اعراض کے اصول کا بھی ہے۔ صبر اور اعراض کا رویہ کسی قسم کی بزدلی یا پسپائی نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر صرف حقیقت پسندی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ خالق فطرت نے انسان کو امتحان کی غرض سے آزادی عطا کی ہے۔ انسان اپنی آزادی کا استعمال کبھی صحیح کرتا ہے اور کبھی غلط۔ اب آپ کیا کریں۔ اگر آپ ہر انسان سے لڑنے لگیں تو لوگوں سے آپ ان کی آزادی چھین نہیں سکتے۔ کیوں کہ یہ آزادی ان کو خود مالک کائنات نے دے رکھی ہے، لوگوں کی آزادی چھینے کی بے فائدہ کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آپ اپنے نقصان میں اضافہ کر لیں گے۔ ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن رویہ ہے ۔ اور وہ وہی ہے جس کو صبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page