Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

(patience) کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگوں کی طرف سے اگر کبھی تلخی اور ناگواری پیش آجاۓ تو اس سے اعراض کرتے ہوۓ اپنا سفرِ حیات جاری رکھا جاۓ۔ صبر و اعراض دوسروں کا مسئلہ نہیں، وہ خود اپنا مسئلہ ہے۔ بے صبری آدمی کے سفر کو روک دیتی ہے۔ اور صبر اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ آدمی کی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاۓ۔ نظامِ فطرت ایک شاعر کا قطعہ ہے ۔ اپنے ان دو شعروں میں اس نے نہایت سادہ طور پر زندگی کی حقیقت بتادی ہے۔ وہ قطعہ یہ ہے: کہا: کیا اونٹ پر بیٹھوں کہا: ہاں اونٹ پر بیٹھو کہا: کوہان کا ڈر ہے کہا: کوہان تو ہوگا کہا: دریا میں کیا اتروں کہا: دریا میں ہاں اترو کہا: طوفان کا ڈر ہے کہا: طوفان تو ہوگا کہا: کیا پھول کو توڑڑوں کہا: ہاں پھول کو توڑو کہا: پر خار کا ڈر ہے کہا: پر خار تو ہوگا یہی موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت ہے۔ یہاں اونٹ ہے تو کوہان بھی ہے۔ یہاں ہموار پیٹھ والا کوئی اونٹ موجود نہیں۔ یہاں دریا میں طوفان کا مسئلہ بھی ہے، یہاں کوئی ایسا دریا نہیں پایا جاتا جس میں سکون ہی سکون ہو، تموج (waves) نام کی کوئی چیز وہاں موجود نہ ہو۔ اسی طرح یہاں خدا کے اگاۓ ہوۓ باغ میں اگر خوب صورت پھول ہیں تو اسی کے ساتھ خار (نوک دار کانٹے) بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page