Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا سفر

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

میں لوگوں کی طرف سے کڑوی باتیں پیش آئیں گی ۔ جس میں لمبے انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی ۔ جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاریاں ہوں گی ۔ ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کو کھودے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے تو وہ درمیان ہی میں اپنے راستہ کو کھوٹا کرے گا، وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔ جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لیے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت نہ ہونا جانے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپالے۔ آخرت کا راستہ صبر کا راستہ ہے "وہ لوگ اپنے واجبات کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی ۔ وہ اللہ کی محبت میں غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم کو صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری چاہتے ہیں۔ ہم کو تو اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ ہے۔ پس اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہ وہاں تختوں پر مسندیں لگائے ہوئے ہوں گے ۔ وہاں نہ گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی۔ جنت کے درخت ان پر جھکے ہوئے سایہ کر رہے ہوں گے۔ اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔ لوگ ان کے پاس چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے لیے پھر رہے ہوں گے۔ وہ شیشے بھی چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے ٹھیک اندازہ کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسے پیالے پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی ۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page