صبر کا سفر
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے رہیں گے۔ تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے ہر طرف نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمھارا بدلہ اور تمھاری کوشش اللہ کے یہاں مقبول ہوئی“ (7:22-76)۔ قرآن کا یہ ارشاد بتا رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی کوششیں آخرت میں سعی مشکور (76:26) کا درجہ حاصل کریں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ہولنا کیوں کا اتنا شدید احساس رکھتے ہوں کہ وہ ان کے اوپر ایک قسم کا آسمانی محاسب بن کر چھا جائے۔ ان کا حال یہ ہو جائے جیسے کہ وہ موت کی دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اسی کے زیر اثر سارا کام کر رہے ہیں۔ وہ جب کوئی عہد کریں ، خواہ منت کا عہد ہو یا ایمان کا عہد یا قول و قرار کا عہد، تو وہ اس کو اس طرح پورا کریں جیسے وہ بے پناہ یقین کے ساتھ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر انھوں نے اس کو پورا نہ کیا تو جہنم کی آگ انھیں پکڑلے گی۔ ان کا ایمان باللہ ان پر جن باتوں کو لازم کر رہا ہے اور ان کا عہد ان کو جن چیزوں کا پابند بنا رہا ہے، ان کو وہ اس طرح پورا کریں جیسے وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے لیے دو میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کا سوال ہے۔ یا قول و قرار کے تقاضوں کو پورا کرنا یا جانتے بوجھتے اپنے آپ کو جہنم کے الاؤ میں گرا دینا۔ آخرت کے احساس ہی کے تحت ان کے اندر جو دوسری خصوصیت پیدا ہوتی ہے وہ بندوں کے ساتھ مہربانی ہے۔ وہ اپنے لیے اپنے رب سے مہربانی چاہتے ہیں، اس لیے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمائی میں محتاجوں کا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader