صبر کا سفر
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
ان لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، جو حالات کے نتیجہ میں بے بس ہو گئے تھے یا بندشوں میں پھنسے ہوئے تھے ۔ بندگانِ خدا کی خدمت کا یہ کام جو وہ کرتے ہیں، بدلہ اور شکرانہ وصول کرنے کے لیے نہیں کرتے۔ اس کا محرک تمام تر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کے دن جب وہ خدا کے سامنے تمام کمزوروں سے زیادہ کمزور حالت میں کھڑے ہوں، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یارو مددگار نہ چھوڑے، بلکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لیے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے۔ وہ بھوکے کو کھلاتے ہیں ، تا کہ خدا ان کو کھلائے۔ وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں ، تاکہ خدا ان کو سہارا دے۔ وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں، تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے۔ ان لوگوں کو یہ نعمتیں اس لیے ملیں گی کہ انھوں نے صبر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لیے جینا، دکھائی دینے والے ”جنت اور جہنم“ کو نظر انداز کر کے، نہ دکھائی دینے والے جنت و جہنم کے لیے سرگرم ہونا، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے۔ اس راہ میں کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گرم نام کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے، جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبر و برداشت کا معاملہ ہے۔ جو اپنے آپ کو دبانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader