Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا سفر

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

اور کچلنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا۔ قرآن میں ہے: وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (80 : 28)۔ یعنی، اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا تھا، خرابی ہو تمھاری۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا۔ اور یہ بات انھیں کے دل میں پڑتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ دنیا کی زندگی دراصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے۔ مگر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، ایسے موقع پر منفی جذبات کی پرورش سے اپنے کو روکنا پڑتا ہے۔ کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کو ٹولنا پڑتا ہے، تا کہ حسد اور رقابت کے بیچ کو نکال پھینکا جائے۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے، حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا نیاز مندانہ انداز ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے، حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے، جہاں وہ تعریف و تنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے۔ دوسروں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں بنتا اور انصاف اور خیر خواہی پر قائم ہونا صبر کے بغیر ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page