صبر، بے صبری
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر، بے صبری کسی آدمی کے ساتھ آپ کا مسئلہ پیدا ہو تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ خود اس کے حل کی ذمہ داری قبول کریں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مسئلہ کے حل کی ذمہ داری دوسرے آدمی کے اوپر ڈالیں ۔ پہلا طریقہ صبر کا طریقہ ہے، اور دوسرا طریقہ بے صبری کا طریقہ۔ صبر کا مطلب خود ذمہ داری قبول کرنا ہے، اور بے صبری کا مطلب دوسرے کے اوپر ذمہ داری ڈالنا۔ یہی مختصر الفاظ میں صبر اور بے صبری کا خلاصہ ہے۔ صبر آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتی ہے۔ صبر والا آدمی پیش آمدہ صورت حال کو چیلنج سمجھتا ہے اور اس سے مقابلہ کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت کو محنت اور عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت کا ہر لمحہ اور اپنے اثاثہ کا ہر ذرہ تعمیر کے راستوں میں لگاتا ہے۔ نئے حالات کا جھٹکا اس کو از سرِ نو بیدار کر دیتا ہے، بھر پور جد و جہد کے ذریعہ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اپنی غلطیوں کی تلافی کر لیتا ہے۔ اس کے بر عکس، بے صبر آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی پوری سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہن احتجاج اور شکایت کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے اثاثہ کو تعمیرِ خویش کے بجائے تخریب غیر کے محاذ پر لگا دیتا ہے، وہ اپنی کمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کو کام سمجھ کر اس میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ اپنی بے عملی سے محروم ہوا تھا، تو اب وہ غلط عمل کی بنا پر اپنے کو مزید محروم کر لیتا ہے۔ صبر کا مطلب سوچ کر اقدام کرنا ہے اور بے صبری کا مطلب بے سوچے سمجھے اقدام کرنا۔ صبر منصوبہ بند عمل ہے اور بے صبری عجلت کی کارروائی۔ صبر حالات کا اندازہ کر کے حالات سے نپٹنا ہے اور بے صبری حالات کا اندازہ کیے بغیر حالات میں کو د پڑنا۔ صبر دانش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader