صبر اور دعوت
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر اور دعوت صبر داعی کا اخلاق ہے۔ صبر ہی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ کوئی شخص دعوتی مواقع کو استعمال کر سکے۔ جو آدمی ناخوش گوار باتوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ اس دنیا میں کبھی داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ سر جیمز جینز (1877ء-1946ء) مشہور انگریز سائنسداں ہے۔ اس نے طبیعیات اور فلسفہ (Physics & Philosophy) کے نام سے 1942ء میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کے دیباچہ میں اس نے اعتراف کیا کہ کائنات کے سائنسی مطالعہ نے ہم کو جہاں پہنچایا ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کا ہینڈل حاصل کر سکیں: It almost seems to suggest that the door may be unlocked, if only we could find the handle. انگریز سائنس داں نے جس وقت یہ سطریں لکھی ہیں، عین اس وقت ساری دنیا کے مسلمان انگریزوں کی سیاسی بالا دستی پر بھڑک کر ان کے خلاف خون آشام لڑائی میں مصروف تھے۔ وہ انگریز کو صرف ایک قابل نفرت دشمن کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ اگر وہ انگریز کی سیاسی بالا دستی پر وقتی طور پر صبر کر لیتے تو اچانک انہیں دکھائی دیتا کہ انگریز قوم حقیقت کے دروازے کھولنے کے لیے جس ”ہینڈل“ کی تلاش کر رہی ہے، وہ ہینڈل ان کے پاس قرآن کی صورت میں موجود ہے۔ اس واقفیت کی صورت میں انگریز کے بارے میں ان کی پوری نفسیات بدل جاتی۔ اب وہ انگریز کو اپنا مدعو سمجھتے، نہ کہ اپنا حریف۔ اس کے بعد وہ انگریز کی ہلاکت چاہنے کے بجائے، اس کی ہدایت چاہنے لگتے۔ وہ انگریز کی اصلاح کے لیے دعا کرتے اور اس کے خیر خواہ بن کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader