تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے یہ کہتے کہ حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تم کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تمہارے خدا نے پیشگی طور پر قرآن کی صورت میں تمہارے لیے بھیج دیا ہے۔ صبر دعوت کی لازمی شرط ہے۔ جہاں صبر نہ ہو، وہاں دعوت بھی یقینی طور پر نہیں ہوگی۔ صبر ایک مثبت عمل عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبر ایک منفی عمل ہے، مگر یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک مثبت عمل ہے، بلکہ وہ مثبت عمل کی بنیاد ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر اس دنیا میں کوئی مثبت عمل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اطرافِ عرب کے رئیسوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے ۔ آپ کا یہ عمل واضح طور پر ایک مثبت عمل تھا۔ مگر اس مثبت عمل کی قیمت صبر تھی ۔ اس سے پہلے آپ کو صبر کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ حالات پیدا ہوں، جن میں مذکورہ قسم کا مثبت عمل انجام دیا جا سکے ۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ رئیسوں اور بادشاہوں کے نام یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کیے گئے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کام صلح حدیبیہ سے پہلے بھی ہو سکتا تھا ۔ پھر آپ نے اس کو صلح حدیبیہ کے بعد کیوں انجام دیا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے آپ جنگ وقتال کے حالات میں گھیرے ہوئے تھے۔ صبح وشام دشمنوں کے حملہ کا خطرہ لگا رہتا تھا اور آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی ساری توجہ دفاعی کاموں میں خرچ ہورہی تھی۔ ایسے غیر معتدل حالات میں حکمرانوں کے نام دعوتی مہم کا منصوبہ بنانا اور اس کی تعمیل کرنا عملًا سخت دشوار تھا۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد حالات بالکل معتدل ہو گئے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader