Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر اور اعراض

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ظلم اور تعصب کا کیس نہیں ۔ وہ ایسے لوگوں کا کیس ہے جو زندگی کی دوڑ میں دوسرے لوگوں سے پچھڑ گئے ہوں۔ مسلمان آج جو کچھ بھگت رہے ہیں، وہ خود اپنے پچھڑے پن کی قیمت ہے ۔ اب ہمیں ایک وقفہ تعمیر درکار ہے، تا کہ ہم اپنے پچھڑے پن کی تلافی کر سکیں ۔ اس وقفہ تعمیر کو حاصل کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ صبر کا رویہ اختیار کیا جائے ۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ہر شکایت کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے ۔ مواقع کو استعمال کرنے کی خاطر مسائل کو نظر انداز کیا جائے ۔ یہی زندگی کا راستہ ہے ۔ اس کے سوا جو راستے ہیں ، وہ مسلمانوں کو تباہی کے سوا کسی اور منزل پر نہیں پہنچا سکتے ۔ مسئلہ کا حل 1947 ء کے بعد کے دور میں ہندوستان کے مسلمانوں کے ذہن پر سب سے زیادہ جو مسئلہ چھایا رہا ہے ، وہ فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کو مستقل طور پر عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے ۔ مگر مذکورہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہے ۔ مسلمان سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں ، اور اس کے بعد یقینی طور پر وہ فساد کی مصیبت سے نجات پا جائیں گے ۔ عمر بن عبد العزیز (وفات 101 ھ ) کا قول ہے کہ صبر مومن کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہے : الصَّبْرُ مَعْوُلُ الْمُؤْمِنِ (الزہد لاحمد بن حنبل ، صفحہ 238) ۔ مذکورہ واقعہ ، اور اس طرح کے دوسرے واقعات ، اس قول رسول کی عملی تصدیق ہیں ۔ اللہ تعالی نے صبر و اعراض کی صورت میں اہل ایمان کو ایک ایسی ڈھال دے دی ہے جو بے خطا اپنا عمل کرتی ہے۔ جب بھی آپ صبر کی تدبیر اختیار کریں ، وہ آپ کے لیے یقینی بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page