Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اس کی آخری منزل نہیں۔ اس آغاز کے بعد آدمی کو مسلسل طور پر ایک کورس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کورس کی تکمیل کے بغیر حقیقی معنوں میں کوئی شخص مومن و مسلم کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کورس کے اجزا بنیادی طور پر یہی تین ہیں ۔ صبر اور محاسبہ اور توسم۔ یہ کورس کسی قسم کے رسمی اعمال کے ذریعے انجام نہیں پاتا۔ یہ مکمل طور پر ایک شعوری سفر ہے۔ اپنے شعور کو متحرک کرکے ہی آدمی اس امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ صبر کرنے والے قرآن میں صبر کی بہت زیادہ اہمیت بتائی گئی ہے۔ چار مقام پر صبّار کا لفظ آیا ہے، یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والے (42:33; 34:19; 31:31 ;14:5)۔ ایک مقام پر یہ آیا ہے: فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ (11:49)۔ یعنی، پس صبر کرو بیشک آخری انجام ڈرنے والوں کے لیے ہے۔ ان آیتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کا تعلق بہت زیادہ صبر سے ہے۔ صبر ہے تو کامیابی ہے، صبر نہیں تو کامیابی نہیں۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا اجتماعی زندگی کی دنیا ہے۔ یہ دنیا کسی اکیلے انسان کی دنیا نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی (collective life) کی دنیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کو مل جل کر رہنا پڑتا ہے۔ آپ کوئی منصوبہ بنائیں، اور اس کے لیے اللہ سے دعا کریں، تو آپ خواہ کتنا ہی زیادہ صحیح راستے پر ہوں، لیکن آپ کی کامیابی کا راستہ بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان سے گزرے گا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ یہ دنیا اسباب وعلل کے اصولوں پر قائم ہے۔ اس دنیا میں کوئی کامیابی تدریجی عمل (gradual process) کے روپ میں حاصل ہوتی ہے۔ ہر آدمی کو دوسرے انسان کے ساتھ مل جل کر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page