Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی اپنے سفر کے ساتھ دوسرے لوگوں کو اپنے سفر کا راستہ دینا پڑتا ہے۔ تب ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنے سفر کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔ یہی زندگی کا وہ تقاضا ہے، جس کی وجہ سے ہر انسان کو صبر کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کو مواقع دینے کے بعد ہی ایک شخص کو اپنے لیے زندگی کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ یہ عین وہی اصول ہے، جس کو ٹریفک کا اصول کہا جاتا ہے، یعنی راستے پر دوسرے چلنے والے کو موقع دے کر اپنے لیے چلنے کا راستہ نکالنا۔ گویا سفر ایک مینجمنٹ کا معاملہ ہے۔ صحیح مینجمنٹ سے آپ کا سفر کامیابی کی منزل تک پہنچے گا، اور اگر غلط مینجمنٹ ہو تو آپ کا سفر کہیں پہنچنے والا نہیں۔ کامیاب سفر صبرانہ مینجمنٹ کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔ قدرت کے باوجود حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کو اپنے دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو اسے معاف کرنے کو اس پر اپنی قدرت کا شکرانہ بنالو: رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ إِذَا قَدَرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ، فَاجْعَلِ الْعَفْوَ عَنْهُ شُكْرًا لِلْقُدْرَةِ عَلَيْهِ (ادب الدنیا و الدین للماوردی، جلد 1، صفحہ 262)۔ اخلاق کیا ہے۔ اخلاق اعلیٰ انسانی کردار کا دوسرا نام ہے۔ انسانی تعلقات میں کسی شخص سے جس اعلیٰ سلوک کی توقع کی جاتی ہے اسی کو اخلاق کہتے ہیں۔ کسی انسان کی انسانیت کو پہچاننے کا معیار یہی اخلاق ہے۔ ایک شخص سے آپ کی دشمنی ہوگئی۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ آپ نے اس کو زیر کرکے اس کے اوپر قابو پالیا۔ اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس معاملہ کو صرف انتقام کی نظر سے دیکھیں، آپ یہ سوچیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس سے بھر پور بدلہ لیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page