تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے اور اپنے انتقام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ مگر یہ نہایت چھوٹی سوچ ہے، اعلیٰ انسانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ سارے معاملے کو خدا کی نظر سے دیکھیں۔ آپ اپنی کامیابی کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی کامیابی سمجھیں۔ ایسی حالت میں آپ کے جذبات بالکل مختلف ہوں گے۔ اب آپ کے اندر شکر کا جذبہ ابھر آئے گا۔ اپنی کامیابی کے بعد شکر کی سب سے زیادہ اعلیٰ صورت آپ کو یہ دکھائی دے گی کہ آپ اپنے دشمن کو معاف کر دیں۔ قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کر دینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک زبردست قربانی کا معاملہ ہے۔ اس کے لیے باہر کے دشمن کو کچلنے کے بجائے، خود اپنے نفس کو کچلنا پڑتا ہے۔ اپنے اندر بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قابو پانے کے بعد بھی اپنے دشمن کو معاف کر دے۔ معاف کرنا ایک نیکی ہے۔ اور قدرت کے باوجود معاف کرنا سب سے بڑی نیکی۔ صبر، صبر، صبر انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حد درجہ خود پسند واقع ہوا ہے ۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے کو عزت اور بڑائی کے مقام پر دیکھے، ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی رائے سب سے اچھی رائے سمجھی جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے حق کے سفر کو موجودہ دنیا میں مشکل ترین سفر بنا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کروڑوں انسانوں میں ہر آدمی جب اپنے کو صحیح سمجھے تو کون کس کی بات سنے گا اور کون حق کو حق سمجھ کر قبول کرے گا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو ”میں پرستوں“ کے ہجوم میں اپنے کو ”بے میں“ بنالے ۔ جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں تحلیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader