Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر، صبر، صبر

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

کردے ۔ جو اپنی بات کے مقابلہ میں حق کی بات کو اختیار کر لے ۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلہ میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے ۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں وہ اپنی طرف سے منفی عمل کا اظہار نہ کرے ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک بے حد مشکل راستہ ہے، مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی آدمی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے ۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو کچل ڈالے ۔ حق کا سفر جنت کا سفر ہے ۔ اور جنت کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ ناخوش گواریوں سے ڈھانک دی گئی ہے : حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جنت کی طرف بڑھنے والے کے لیے ناخوش گوار حالات سے گزرے بغیر چارہ نہیں ۔ جو شخص بھی جنت کا مسافر بننا چاہے اس کو پہلے ہی جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے راستہ پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے تلخ باتیں آئیں گی، جس میں طویل انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی، جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاری کی باتیں پیش آئیں گی ۔ حتی کہ کبھی جارحانہ کارروائیوں کا سامنا ہوگا۔ ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کھودے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے تو وہ یا تو بدل ہو کر اپنا راستہ بدل لے گا یا درمیان کے کانٹوں سے الجھ کر رہ جائے گا اور آگے نہ بڑھ سکے گا ۔ جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے ۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لیے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہونا نہ جانے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپا لے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page