Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبروبرداشت

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

صبروبرداشت حضرت ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری کی ایک روایت ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے اپنی ” صحیح “ میں نقل کیا ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو اللہ کی طرف سے صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ بڑا عطیہ نہیں دیا گیا: وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053)۔ صبر تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ خواہ اس کا تعلق دنیا کی کامیابی سے ہو یا آخرت کی کامیابی سے۔ پیغمبر اسلام کی یہ تعلیم اعلیٰ ترین فطری صداقت تھی ۔ چنانچہ وہ ساری دنیا میں مختلف شکلوں میں دہرائی گئی۔ شیخ سعدی شیرازی (1292-1213ء) نے اس کو فارسی زبان میں اس طرح بیان کیا کہ صبر کڑوا ہے ، مگر اس کا پھل میٹھا ہے: صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد اس کے بعد زندگی کا یہ قیمتی سبق عالمی ادب میں پہنچا اور ہر ملک میں اس کو کسی نہ کسی صورت سے نقل کیا گیا۔ مثلاً فرانسیسی مفکر روسو (Jean Jacques Rousseau) نے یہی بات اس طرح کہی کہ برداشت کڑوی چیز ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے: Patience is bitter, but its fruit is sweet. صبر کا کڑوا پن چند منٹ کے لیے ہوتا ہے ، مگر بے صبری کے نتیجہ میں جو کڑوا پن آتا ہے ، وہ برسوں تک بھی ختم نہیں ہوتا۔ صبر کا جھٹکا ذہن کے اندر صرف نفسیاتی طور پر سہنا پڑتا ہے ، مگر بے صبری وہ چیز ہے جس کا انجام جانوں کی ہلاکت ہے۔ جائیدادوں کو برباد کرتی ہے۔ وہ آدمی کو آگ اور خون کے دریا میں پہنچادیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page