تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر ایک اصول ہے۔ جب کہ بے صبری صرف ایک منفی ردِ عمل ہے۔ صبر کرنے والا اپنے آپ کو با اصول انسان ثابت کرتا ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اطمینان کی یہ لذت ملتی ہے کہ وہ کٹھن گھڑیوں میں بھی اصول پر قائم رہا۔ اس کے برعکس، بے صبر انسان کے حصہ میں یہ بد نصیبی آتی ہے کہ وہ وقتی طور پر بھڑک کر ایک جذباتی کارروائی کرے، اور پھر ساری عمر پچھتاتا رہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ صبر کی زمین پر ہری بھری فصل مٹی کے کھیت میں آتی ہے، نہ کہ سونے چاندی کے فرش پر۔ یہ محدود معنوں میں صرف زراعت کی بات نہیں، بلکہ یہ زندگی کا عالم گیر قانون ہے۔ خدا نے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لیے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اسی خاص نظام کے تحت وہ چیز وجود میں آتی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہم اس کو وجود میں نہیں لاسکتے۔ یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو صبر کی زمین پر دینا پڑتا ہے۔ زندگی ایک ایسی کھیتی ہے، جو صبر کی زمین پر اگتی ہے۔ خدا نے ابدی طور پر مقرر کر دیا ہے کہ زندگی کی تعمیر صبر کی زمین پر ہو، اب قیامت تک یہی ہونا ہے۔ ہم اس کی تعمیر کے لیے کوئی دوسری زمین نہیں بنا سکتے۔ صبر کسی منفی چیز کا نام نہیں، وہ سرا سر ایک مثبت رویہ ہے۔ صبر کا مطلب ہے ۔ بے سوچے سمجھے کر گزرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنا کام کرنا۔ جذباتی رد عمل کے بجائے شعوری فیصلے کے تحت اپنا منصوبہ بنانا۔ وقتی نا امیدیوں میں مستقبل کی امید کو دیکھ لینا۔ حالات میں گھر کر رائے قائم کرنے کے بجائے، حالات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا۔ ایک بیچ کو آپ سونے کی پلیٹ میں رکھ دیں تو وہ اپنی زندگی کے سر چشموں سے مربوط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader