صبر کی زمین پر
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے اسباب سے بھری ہوئی کائنات میں بے اسباب بنا ہوا پڑا رہتا ہے۔ وہ زرخیزی کی ساری صلاحیت رکھتے ہوئے بھی زرخیزی سے محروم رہتا ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ اگر وہ بے صبری کی حالت میں ہو تو وہ خدا کی سرسبز و شاداب دنیا میں ایک ٹُھٹھ کی مانند سوکھا ہوا پڑا رہے گا۔ لیکن صبر کو اختیار کرتے ہی وہ اچانک خدا کی زمین میں اپنی جڑیں پال لیتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بالآخر پورا درخت بن جاتا ہے۔ جب آدمی حقیقی معنوں میں صبر کا ثبوت دیتا ہے تو وہ انسانوں کی سطح پر جینے کے بجائے ربانی سطح پر جینے لگتا ہے۔ دنیا کی تنگیوں سے گزر کر وہ آخرت کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بے معنی زندگی کے مرحلہ سے نکل کر با معنی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ صبر والا انسان ہی مومن انسان ہے۔ اس کے لیے وہ ابدی انعام مقدر کیا گیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ صبر ــ سپیری ریزولوشن قرآن کی تقریباً 103 آیتیں براہِ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں۔ اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں ۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔ صبر کی براہِ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے۔ مثلاً ــ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (2:45)۔ یعنی، اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (3:186)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader