Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کی زمین پر

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ (31)۔ یعنی، جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر صبر کرو۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (17: 90)۔ یعنی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی ۔ وغیرہ یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2:2)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کوئی بھی آدمی ناخوش گوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو كبد (مشقت) میں پیدا کیا گیا ہے (90:4)۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بنا سکے۔ پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا واحد راز صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اس وقت اس کے لیے ممکن ہوگا کہ سچا کلمہ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لیے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے (31:31)۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلہ میں تسخیری انداز کا برتر حل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریق ثانی کے مقابلہ میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے یا کوئی دور رس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب ۔ صبر ہر قسم کے مسائل کا برتر حل (سپیریئر سولیوشن) ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page