صبر کی طاقت
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی طاقت حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں (البقرہ، 2:249)۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اس وقت بنی اسرائیل کے سردار (یونتن) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آو، ہم اُدھر ان ناختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے۔ کیوں کہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں (1۔ سموئیل 6:14)۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249)۔ یعنی، جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لیے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقت ور کے معنی میں بھی ہے۔ عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توسیعی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے: فَإِنْ اَلُكَ فِي شِرَارِكُمُ قَلِيْلًا فَإِنِّي فِي خِيَارِكُمُ كَثِيرٌ قرآن کی اس آیت میں دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل التعداد یا کمزور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader