Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کی طاقت

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر التعداد یا طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام رہے ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقت ور پر غالب آسکتا ہے۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔ اس فتح وکامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی انفعالی کیفیت یا بزدلی کی چیز نہیں۔ صبر ایک فعال صفت ہے۔ وہ ایک بہادرانہ خصوصیت ہے۔ صبر اتنی عظیم چیز ہے کہ جو لوگ اس کا ثبوت دیں وہ خدا کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ ایک بظاہر کمزور گروہ ایک بظاہر طاقت ور گروہ کے اوپر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ہمیشہ مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ غالب آ جاتا ہے اور دوسرا گروہ اس کے مقابلہ میں بظاہر مغلوب اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب کوئی گروہ دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پڑ جائے اور اس کو نقصان اٹھانا پڑے تو اس کے بعد کمزور گروہ کے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک غیر صابرانہ ردعمل، دوسرا صابرانہ ردعمل ۔ غیر صابرانہ ردعمل یہ ہے کہ آدمی مایوسی اور احساس شکست کا شکار ہو کر رہ جائے ۔ وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ وہ سمجھ لے کہ اب میرے لیے یہاں کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسرے گروہ کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنے لگے ۔ یہ تباہی کی صورت ہے۔ دوسروں نے اگر اس کو ابتدائی نقصان پہنچایا تھا تو اس کے بعد وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر اپنی تباہی کی تکمیل کر لیتا ہے۔ دوسرا رد عمل صابرانہ رد عمل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو چوٹ لگنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالتا ہے۔ اس کا ذہن شکایت کرنے کے بجائے تدبیر کے رخ پر چلنے لگتا ہے ۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page