اشتعال کے بغیر
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے۔ دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ 1۔ ابن عبدالبر اندلسی (م 463ھ) لکھتے ہیں: أَنَّ طَاوُسًا وَوَهْبَ بْنَ مُنَبِّهِ التَّقِيَّا، فَقَالَ طَاوُسٌ لِوَهْبٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، بَلَغَنِي عَنْكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ فَقَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ حَمَلَ قَوْمَ لُوطٍ بِبَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ ثُمَّ سَكَتَ قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ اخْتَصَمْنَا؟ قَالَ: لَا (جامع بیان العلم وفضله، اثر نمبر 1799)۔ یعنی، طاؤس بن کیسان (وفات 106ھ) اور وہب بن منبہ (وفات 114ھ) دو تابعی ہیں۔ ایک مرتبہ ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو طاؤس نے وہب سے کہا: اے ابو عبداللہ، آپ کے بارے میں مجھے ایک بڑی سنگین بات پہنچی ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا؟ طاؤس نے کہا: میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے قوم لوط کے بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھایا تھا۔ یہ سن کر وہب نے کہا: اللہ کی پناہ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے۔ میں نے راوی سے پوچھا: کیا دونوں میں بحث ہوئی۔۔ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ 2۔ مولانا احمد علی لاہوری (1962-1887ء) کے صاحبزادے مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی (1957-1879ء) کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا مدنی کے دورۂ حدیث میں شریک تھے۔ شرکاء درس میں سے کسی طالب علم کو شرارت سوجھی۔ اس نے مولانا کے پاس ایک رقعہ بھیجا اور اس کے ذریعہ تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں۔ مولانا مدنی نے رقعہ لے کر رکھ لیا اور پہلی نشست میں کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری نشست میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا” کسی دوست نے مجھ کورقعہ لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے۔“ یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان بر پا ہو گیا۔ طلبہ غیظ و غضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader