تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
نے یہ حرکت کی ہے۔ مولا نا مدنی نے فرمایا ” خبر دار کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کروں۔ “ پھر سنجیدگی کے ساتھ فرمایا ” میں ضلع فیض آباد، قصبہ ٹانڈہ کا رہنے والا ہوں۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں۔ خط بھیج کر سمجھ لیا جائے“۔ خاموش تدبیر الطاف حسین حالی(1914-1837ء) اصلاحی شاعری کو پسند کرتے تھے۔ اس اعتبار سے انھوں نے قدیم اُردو شاعری کا جائزہ لیا تو وہ انہیں نہایت بے معنی نظر آئی۔ انھوں نے پایا کہ قدیم اردو شاعری میں مبالغہ ہے۔ حسن وعاشقی کی داستان ہے۔ فرضی خیال آرائی ہے۔ حالی نے اس شاعری پر سخت تنقید کی اور اس کے بجائے با مقصد شاعری کی وکالت کی۔ یہ تنقید ان لوگوں کو بہت نا گوار ہوئی جو قدیم اردو شاعری کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کو برداشت نہیں ہوا کہ ایک شخص ان کے پر فخر اثاثہ کو بے قیمت بتائے۔ چنانچہ وہ حالی کے دشمن ہو گئے ۔ ان لوگوں نے حالی کے خلاف نہایت غیر سنجیدہ قسم کے مخالفانہ مضامین چھاپنے شروع کیے ۔ حالی نے اس لغو طوفان کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی۔ اس پر اودھ پنج (لکھنؤ) نے ایک فاتحانہ نظم شائع کی ۔ اس کا ایک شعر یہ تھا : ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے مخالفت برائے مخالفت کا یہ طوفان مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔ اس لیے وہ بہت زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد مخالفین خاموش ہو گئے ۔ حالی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے مخالفین کیسے چپ ہو گئے ۔ وہ تو بظاہر ہر چپ ہونے والے نظر نہیں آتے تھے۔ حالی نے اس کے جواب میں ایک نظم لکھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader