خاموش تدبیر
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوۓ چپ سب کچھ کہا انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا کوئی شخص سنجیدہ اختلاف اور علمی تنقید کرے تو وہ بلاشبہ قابلِ غور ہوتی ہے۔ اگر وہ درست ہے تو اس کو مان لینا چاہیے اور اگر اس کے اندر استدلالی نقص ہے تو دلائل کے ساتھ اس کی غلطی کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ مگر جو مخالفت براۓ مخالفت ہو، جو علمیت اور سنجیدگی سے خالی ہو، جس کی بنیاد حقائق کے بجاۓ الزام تراشی اور عیب جوئی پر ہو، ایسی مخالفت کا بہترین جواب خاموشی ہے۔ ایسے لوگوں کا جواب دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص چیختے ہوۓ گدھے کے سامنے وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (31:19) کا وعظ کہنے لگے، یعنی اور اپنی آواز کو پست کرو۔ صبر کا کرشمہ گل برگا (کرناٹک) کے ایک صاحب نے اپنے ایک خط (10 فروری 2010ء) میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ انھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "ایک غلط پروپیگنڈے کی بنا پر مجھ کو تین ماہ سروس سے معطل ہونا پڑا۔ لیکن اس دوران نہایت صبر و استقلال کے ساتھ غیر ضروری باتوں سے اعراض کرتے ہوۓ بلا طلب حجت یک طرفہ طور پر "میں غلطی پر تھا" کے مشورے پر رجوع بکار ہوا (یعنی اس اصول پر عمل کیا)۔ اس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ مجھ کو سروس سے برخاست کرنے کے لیے جو طریقے اپناۓ گئے تھے، وہ بالکل ناکام ثابت ہوۓ، اور میں پہلے سے زیادہ مضبوط طور پر اپنی جگہ واپس آ گیا۔ یہ بلاشبہ الرسالہ کی فکری پالیسی کا نتیجہ تھا۔" یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نزاعی مسائل کا حل کیا ہے۔ اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader