خاموش تدبیر
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد امریکہ، برطانیہ اور روس نے مل کر وہ فوجی محاذ قائم کیا جو تاریخ میں اتحادی طاقتوں (Allied Powers) کے نام سے مشہور ہے۔ اس فوجی اتحاد کا سب سے زیادہ نقصان جاپانیوں کے حصہ میں آیا۔ امریکہ نے اگست 1945 ء میں جاپان کے دو صنعتی شہروں ( ہیروشیما اور ناگاساکی ) پر تاریخ کے پہلے ایٹم بم گرائے۔ جاپان کے دونوں صنعتی مراکز بالکل برباد ہوگئے اور اسی کے ساتھ جاپان کی فوجی طاقت بھی۔ پرل ہاربر پر بمباری کرنا بلا شبہ جاپان کی عظیم الشان فوجی غلطی تھی۔ اس اقدام نے غیر ضروری طور پر امریکہ کو جاپان کا دشمن بنا کر براہ راست اس کے خلاف کھڑا کر دیا۔ مگر جاپان ایک زندہ قوم تھی۔ اس نے ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہیں کی۔ اس نے نئے حالات کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کر لیا۔ جاپان کی اس عقل مندی نے اس کے لیے ایک نیا عظیم تر امکان کھول دیا۔ جنگی میدان میں اقدام کے مواقع نہ پا کر اس نے تعلیم اور صنعت کے میدان میں اپنی جد و جہد شروع کر دی۔ سیاسی اور فوجی اعتبار سے اس نے امریکہ کی بالادستی تسلیم کرلی اور دوسرے پر امن میدانوں میں اپنے آپ کو موڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 30 سال میں جاپان نے پہلے سے بھی زیادہ طاقت ور حیثیت حاصل کرلی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مبصر نے لکھا ہے : That is a queer culmination of Pearl Harbour, but history has many contrived corridors and perhaps Pearl Harbour was one of them. یہ پرل ہاربر کے واقعہ کا بڑا عجیب اختتام ہے۔ مگر تاریخ میں اس طرح سے راستہ نکال لینے کی بہت سی مثالیں ہیں اور شاید پرل ہار بران میں سے ایک ہے (ہندوستان ٹائمز، ہر ناکامی کے بعد ایک نئی کامیابی کا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے، بشرطیکہ وہ نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader