خاموش تدبیر
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
جھوٹی اکڑ دکھائے اور نہ بے فائدہ ماتم میں اپنا وقت ضائع کرے۔ بلکہ حالات کے مطابق از سر نو اپنی جد و جہد شروع کر دے۔ صبر کا ہتھیار 4 ستمبر 1980 ء کا واقعہ ہے۔ مسز کلیش (22 سال)، شاہدرہ کی ایک سڑک پر چل رہی تھیں۔ ان کے گلے میں سونے کی زنجیر تھی۔ اچانک اشوک نامی ایک شخص جس کی عمر 25 سال تھی جھپٹا اور مسز کلیش کی زنجیر کھینچ کر بھاگا۔ پولیس کانسٹیبل کشن چند تیاگی (42 سال) اس وقت ڈیوٹی پر گھوم رہے تھے۔ کسی نے ان کو واقعہ کے بارے میں بتایا۔ وہ تلاش کرتے ہوئے ایک بالمیکی مندر میں پہنچے جہاں مجرم موجود تھا۔ پولیس کی وردی دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ کشن چند نے اس کا پیچھا کیا۔ مجرم کے پاس ایک ریوالور تھا۔ اس نے فائر کیا تو اس کی گولی کشن چند کی آنکھ کے نیچے ان کے چہرہ اور گردن کو زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ انھوں نے چلا کر کہا ایک بار تو نے مجھے مار دیا۔ پر دوبارہ تو نہیں مار سکتا۔ مجھے معلوم نہیں تھا تیرے پاس ریوالور ہے۔ اب وہ چوکس ہو گئے۔ مجرم نے دو بار اور گولی چلائی۔ مگر ہر بار وہ نہایت پھرتی کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کے وار کو خالی کر دیا۔ کشن چند کسی خوف کے بغیر تنہا مجرم کا پیچھا کرتے رہے جب کہ دشمن کے پاس ریوالور تھا اور ان کے اپنے پاس لاٹھی بھی نہیں تھی۔ دوڑتے دوڑتے آخر کار ساڑھے چار فٹ کی ایک چہار دیواری سامنے آگئی۔ مجرم اس پر کود گیا۔ کشن چند نے بھی فوراً چھلانگ لگائی اور دوسری طرف جا کے اس کو پکڑ لیا۔ ”ایک مسلح مجرم کو دوڑاتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگا۔“ ایک اخبار نویس نے کشن چند سے پوچھا۔ ”نہیں “۔ انھوں نے جواب دیا۔ میں جانتا تھا کہ جب اس کا ریوالور خالی ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader